بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

February 20, 2026

اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے میری بات سنی، اسے یاد کیا، اور پھر اسے اسی طرح دوسروں تک پہنچایا جیسے اس نے سنا تھا۔(صحیح بخاری)

محرم الحرام 1447ھ

29

تعارف شعبہ علوم الحدیث

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ چوبرجی لاہور

سوالات کے جوابات

تعلیمی نظام

مقالات و کتب

مجالسِ حدیث

مذاکرات و دورات

شعبہ علوم الحدیث کا مختصر تعارف

اَلحمْدُللہِ وَحْدَہ وَالصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلی مَنْ لَانَبِيَّ بَعْدَہٗ،أَمَّابَعد

بانی ومؤسسِ جامعہ “حضرت الحاج حافظ صغیراحمدصاحب نوراللہ مرقدہٗ “کو اللہ تعالیٰ نے برکۃ العصرشیخ الحدیث حضرت مولانامحمدزکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کے فیضانِ صحبت کی برکت سے”عشقِ محمدی “کاوافرحصہ عطافرمایاتھا۔اس کااظہار”اشاعتِ درودشریف “کی متنوّع ومتفرق خدمات ہیں۔حضرتؒ کو”عشقِ نبوی”کے ساتھ اپنے شیخ ومرشد”حضرت شیخ الحدیثؒ”سے بھی وارفتگی تھی۔جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ کے”شعبۂ علومِ حدیث”کواُن کے اِسی عشقِ محمدی ووارفتگیِ مرشدی کی مثال سمجھا جاسکتاہے۔اللہ تعالیٰ حقیقی معنوں میں اِس شعبے کوحضرت سیدالمرسلین خاتم النبیین رسول اللہﷺکی محبت کے فیضان کاباعث بنائے۔آمین
بانیِ جامعہ کی دعاوسرپرستی میں شوال المکرم۱۴۳۸ھ/جولائی ۲۰۱۷ء میں “شعبہ علوم الحدیث”قائم ہوا۔۱۶/صفرالمظفر۱۴۳۹ھ مطابق ۶/نومبر۲۰۱۷ء یوم الاثنین کوحضرت شیخ الحدیثؒ کے نواسے،جامعہ مظاہرعلوم سہارن پورکے جنرل سیکرٹری(امینِ عام)،سرپرستِ جامعہ”حضرت مولاناسیدمحمدشاہدصاحب سہارن پوری رحمہ اللہ”سےتفصیلی مشاورت کے بعدشعبے کامنہج،اغراض واہداف اورنام”شعبہ علوم الحدیث”طے ہوا۔نیز گاہے دیگرعلماے کرام خصوصاًحضرت مولاناعبدالحلیم چشتی صاحبؒ کے معروف شاگردومدرسہ دارالوعی للدعوۃ والتربیۃ ۔پشاورکے مدیر”مولاناساجد احمد صدوی صاحب”سے مشاورت کاعمل جاری رہتاہے۔
جامعہ کے دستورومنشورکے مطابق یہ شعبہ”نائب صدرِ جامعہ”کے ماتحت ہے،وہی”نگرانِ اعلیٰ”ہوتے ہیں۔مجلسِ منتظمہ کی طرف سے شعبے کے تعلیمی وتربیتی نظم وضبط کے واسطے ایک”مشرِف”مقررکیے جاتے ہیں،جو”نگرانِ اعلیٰ”سے مشاورت ومنظوری سےشعبے کے لیے “رفقاے کرام”کاانتخاب کرتے ہیں،اِس وقت(۱۴۴۶/۲۰۲۴ء)نگرانِ اعلیٰ ،مشرِف اوررفَقا مندرجہ ذیل حضرات ہیں:
نمبر۱۔نگرانِ اعلیٰ: حضرت مولانامفتی انیس احمدصاحب مظاہری حفظہ اللہ ورعاہ(نائب صدرِ جامعہ وشیخ الحدیث)
نمبر۲۔مشرِف: مولانا بلال احمدالخلیلی حفظہ اللہ(متخصص فی الحدیث ،جامعہ فاروقیہ و مدرسہ دارالوعی للدعوۃ والتربیۃ،استادِجامعہ)
نمبر۳۔رفُقاے کرام: (۱)مولانامحمدمحسن صاحب حفظہ اللہ(۲)مولانا محمدارشاد صاحب حفظہ اللہ

اغراضِ شعبہ

(الف)سلفِ صالحین کےرسوم وآداب کی روشنی میں حضرت رسول اللہﷺکے ذات مبارکہ سے وابستہ علوم(حدیث،سنت اور سیرت)کی خدمت
(ب)اسلاف واکابرکے طرزپرحدیث وعلومِ حدیث کااحیا۔یادرہے کہ محدثین کی تحقیق کے مطابق علومِ حدیث میں تقریباً ایک سوعلوم وفنون ہیں،جن میں سیرتِ رسول،سیرِ صحابہ،تاریخ،اسماء الرجال،طبقات ،جرح وتعدیل،تصحیح وتضعیفِ حدیث،تحقیق اورضبط وکتابت ِ حدیث،وغیرہ شامل ہیں۔

اہداف و مقاصد شعبہ

نمبر۱۔ایسے رجالِ کار تیارکرناجوحدیث وعلوم الحدیث میں مہارت حاصل کرکے اکابرکے علوم ومعارف سے استفادہ کرتے ہوئے احادیثِ مبارکہ کی خدمت انجام دیں؛اِس کے لیے نصاب ونظام میں بہترسے بہترین کی طرف سفرجاری ہے،اورتخصص فی الحدیث سے قبل “مرحلۃ التقدُّم فی العلوم الاسلامیہ”کانصاب ترتیب دیاگیاہے،دونوں پراجمالی گفتگوآئندہ سطورمیں ملاحظہ فرماسکتے ہیں۔

نمبر۲۔برکۃ العصرحضرت شیخ الحدیث مولانامحمدزکریا کاندھلویؒ کے حدیثی علوم ومعارف کی اشاعت۔

نمبر۳۔حدیث ،علوم الحدیث،تاریخ،سیرت کے حوالے سے معاشرے کے مسائل کاحل۔